ابنا: وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نےحالیہ شدت پسندی کے واقعات کے بعد خفیہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کیبنٹ ڈویژن کے حکام پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
جن خفیہ اداروں میں تبدیلیاں کی جائیں گی ان میں انٹیلیجنس بیورو، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے خفیہ یونٹ اور سپیشل انویسٹیگیشن گروپ شامل ہے۔ تاہم ان تبدیلیوں کا اثر آئی ایس آئی پر نہیں ہوگا جو بظاہر وزیر اعظم کے ماتحت ہے۔
جن اہلکاروں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اُن میں ڈپٹی ڈائریکٹر سے لے کر اسسٹنٹ سب انسپکٹر عہدے تک کے اہلکار شامل ہیں۔ ان افسران کے بین الصوبائی تبادلے کیے جائیں گے۔
شدت پسندی کے حالیہ واقعات کے بعد حکومتی اتحاد اور حزب اختلاف میں شامل جماعتیں خفیہ اور سکیورٹی کے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں پر یہ بھی الزامات لگتے رہے ہیں کہ اُن کے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں جس کی وجہ سے ان تنظیموں کے خلاف کارروائیاں اکثر اوقات موثر ثابت نہیں ہوتیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں اتنی بڑی تعداد میں کبھی بھی خفیہ اداروں کے حکام اور اہلکاروں کی تبدیلی کا فیصلہ کبھی نہیں ہوا۔
ان افراد کو ملک میں حالیہ شدت پسندی کے واقعات کے بارے میں قبل از وقت معلومات اکھٹی نہ کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے پر تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا
خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کے بارے میں جائزے میں انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی شامل نہیں تھی۔ آئی ایس آئی بظاہر سویلین خفیہ ادارہ ہے جو وزیر اعظم کے ماتحت ہے
کوئٹہ میں سولہ فروری کو ہونے والے دھماکے کے بعد وزیراعظم نے انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر کو تبدیل کرنے کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹر کو معطل کردیا تھا۔ انٹیلیجنس بیورو وزیر اعظم کے ماتحت ہے جبکہ ایف اسی اور ایف آئی اے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔
دس جنوری اور سولہ فروری کو ہزارہ ٹاؤن واقعہ کے بعدگورنر بلوچستان نے خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سخت تنقید کی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات خفیہ اداروں کی ناکامی کا ثبوت ہے جبکہ سیکرٹری دفاع نے اس واقعہ کے رونما ہونے کی ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد کی تھی۔
صوبہ بلوچستان اور ِخیبر پختون خوا میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹیگیشن گروپ کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیاگیا جن کی ذمہ داری شدت پسندی کے واقعات سے متعلق شواہد اور ان واقعات میں ملوث شدت پسند تنظیموں سے متعلق معلومات بھی اکھٹی کرنا ہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک متعدد بار بہتر کارکردگی نہ دکھانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کے ماتحت کام کرنے والے خفیہ اداروں سی آئی ڈی اور سپیشل برانچ میں تعینات ایس پی رینک کے ایسے افسران کی کارکردگی کے بارے میں بھی رپورٹ وزارت داخلہ کو بھیجنے کے بارے میں کہا ہے جو کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے یونٹ کی سربراہی کر رہے ہیں۔
.......
/169